| زمیں بیٹھی نہیں، ضد پر ہے پہلے آسماں بیٹھے |
| انا پر بات آئی ہے تو پھر کوئی کہاں بیٹھے؟ |
| ذرا مڑ کر تو دیکھیں جان کتنوں کی گنوا دی ہے |
| قبیلے اَپنی جرأت کی سنائیں داستاں بیٹھے |
| رعایا درد سے بوجھل ہوئی جاتی ہے روز افزوں |
| حصولِ زَلر میں ہیں مشغول اپنے حکمراں بیٹھے |
| بتایا ہے معالِج نے کہ ہے سرطان بیوی کو |
| عجب اس بات سے دل میں مرے وہم و گُماں بیٹھے |
| ہمارے شہر پر اک سرخ ندھی کا تسلّط ہے |
| نہیں معلوم کیسے دھند یہ بیٹھے، دھواں بیٹھے |
| کیا ہے ساتھ دینے کا جو وعدہ اس پہ قائم ہوں |
| برابر کا نبھاؤں گا، بھلے سارا جہاں بیٹھے |
| نجانے کون سے آسیب نے ڈیرے جمائے ہیں |
| ہماری گھات میں سائے بہت ہیں خوں چکاں بیٹھے |
| ہم ایسے دیس کے مظلوم باسی ہیں جہاں حسرتؔ |
| تنزّل اوج پر ہے سب ترقّی کے نشاں بیٹھے |
| رشید حسرتؔ |
معلومات