یہ دریا رحمتوں کے سب انہیں کے در سے بہتے ہیں
سخی سرور ہیں یہ آقا خدا سے اُن کے ناطے ہیں
وہ تشنہ رہ نہیں سکتا جو بردہ مصطفیٰ کا ہے
وہ بانٹیں نعمتِ یزداں انہیں سرکار کہتے ہیں
چلے جائیں گے جنت میں نبی کے نام لیوا سب
کہاں اُن کے غلاموں پر کٹھن حالات رہتے ہیں
نبی میرے سدا رحمت کریں سایہ جہانوں پر
ترانے جن کے سب اونچے جہانِ ہست گاتے ہیں
کریں پھیرا وہ تربت پر جو وادی ہے کٹھن ہمدم
انہیں مشکل کشا ہر جا غریبِ دہر پاتے ہیں
سخی آقا ہیں جاں میری وہی سلطاں زمانے کے
انہی سے نبضِ ہستی ہے انہی سے فیض آتے ہیں
کرم محمود ہے رب کا وہ قاسم ہیں عطاؤں کے
انہیں ہادی انہیں سرور انہیں دلدار کہتے ہیں

0
5