اپنی حد پر آ گیا تو انتہا ہو جاؤں گا
حد سے آگے بڑھ گیا تو ابتدا ہو جاؤں گا
مجھ کو لفظوں میں مکمل مت سمجھ لینا کبھی
ایک معنی کھو گیا تو دوسرا ہو جاؤں گا
وقت میرے گرد دیواریں بناتا جائے گا
میں کبھی درزوں سے نکلا تو ہوا ہو جاؤں گا
مجھ کو ورثے میں ملی ہیں بس یہی خاموشیاں
میں اگر بولوں تو پورا سلسلہ ہو جاؤں گا
ایک دن بچوں کے لہجے میں سنو گے میرا نام
میں کہانی سے نکل کر رونما ہو جاؤں گا
روز تھوڑا تھوڑا خود سے دور جاتا ہوں مگر
ایک دن یادوں میں شاید لاپتا ہو جاؤں گا
میرے دشمن کی گواہی بھی سنو میرے خلاف 
صرف اپنوں کی گواہی سے رہا ہو جاؤں گا
جو مجھے پڑھتا ہے اپنے آپ سے ملتا ہے کیوں
میں ہر اک قاری کا شاید ترجمہ ہو جاؤں گا
تم مری تصویر کو دیوار پر مت ٹانگنا
ایک دن میں خود ہی اپنا واقعہ ہو جاؤں گا
ایک سچ مدت سے میرے دل میں بے آواز ہے
لب پہ آیا تو میں لوگوں سے جدا ہو جاؤں گا
شہر مجھ کو ایک ہی چہرے میں پڑھتا ہے ابھی
میں ذرا خود سے ملا تو دوسرا ہو جاؤں گا
اپنی مٹی کی مہک لے کر نکل آیا ہوں میں
جس جگہ ٹھہروں گا اس سے آشنا ہو جاؤں گا
میری ناکامی کو میرا آخری صفحہ نہ لکھ
اک ورق پلٹا تو پورا ماجرا ہو جاؤں گا
ایک شک برسوں سے میرے ساتھ چلتا آیا ہے
وہ یقیں میں ڈھل گیا تو کیا سے کیا ہو جاؤں گا
میرے اندر ایک بچہ ضد پہ ہے قائم ابھی
اس کو چپ کروا دیا تو پارسا ہو جاؤں گا
مجھ کو اپنی ابتدا معلوم ہے شاہدؔ مگر
کون جانے کس سفر کی انتہا ہو جاؤں گا

0
4