بڑی بگڑی قسمت بنائیں نبی جی
درِ پاک پر اب بلائیں نبی جی
ہے طوفاں میں کشتی کرم ہو کریمی
کریں چارہ ساحل پہ لائیں نبی جی
مدینے میں آؤں ملے بختِ اعلیٰ
مجھے قافلے سے ملائیں نبی جی
کبھی دیکھے عاصی بھی خوابوں میں دلبر
حسیں جلوہ نوری دکھائیں نبی جی
مدینے بلا لیں نبی جی خدا را
حسیں روضہ اپنا دکھائیں نبی جی
نبی جانِ عالم نگاہِ کرم ہو
سخی عیب میرے چھپائیں نبی جی
کرم ہو کریمی یہ محمودِ بے کس
کہے پار کشتی لگائیں نبی جی

0
1
6
یہاں اس خوبصورت نعت شریف کا
خلاصہ (مرکزی خیال): پیشِ خدمت ہے:1. تقدیر کی درستی اور حاضریِ مدینہ کی التجانعت کے آغاز میں شاعر اپنی بگڑی ہوئی قسمت کا ذکر کرتے ہوئے بارگاہِ رسالت ﷺ میں دعا گو ہے کہ آپ ﷺ کرم فرما کر اس قسمت کو سنوار دیں اور اپنے پاک در (مدینہ منورہ) پر حاضری کا شرف بخشیں۔ شاعر کی دلی تمنا ہے کہ وہ مدینے جائے اور اسے نیک بخت لوگوں کے قافلے میں شمولیت نصیب ہو۔

2. مشکلات سے نجات اور وسیلہِ شفاعتشاعر نے انسانی زندگی کی پریشانیوں کو طوفان میں پھنسی ہوئی کشتی سے تشبیہ دی ہے۔ وہ حضور ﷺ کو اپنا چارہ گر اور مددگار مانتے ہوئے فریاد کرتا ہے کہ آپ ﷺ کے کرم کی بدولت ہی زندگی کی یہ کشتی طوفانوں سے نکل کر ساحلِ مراد تک پہنچ سکتی ہے۔

3. زیارتِ رسول ﷺ اور روضہِ پاک کی حسرتنعت کا ایک بڑا حصہ عشقِ رسول ﷺ اور دیدار کی تڑپ پر مبنی ہے۔ شاعر خود کو گنہگار (عاصی) کہتے ہوئے یہ خواہش کرتا ہے کہ کاش اسے خواب میں آقا ﷺ کے حسن و جمال کا نوری جلوہ دیکھنے کو مل جائے اور وہ اپنی آنکھوں سے مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کا حسین روضہ دیکھ سکے۔

4. خطاؤں کی پردہ پوشی کا سوالشاعر حضور ﷺ کو "جانِ عالم" اور "سخی" کہہ کر پکارتا ہے اور آپ ﷺ کی نگاہِ کرم کا طالب ہے۔ وہ دنیاوی مال و زر کی بجائے آقا ﷺ سے یہ بھیک مانگتا ہے کہ محشر میں اور اس دنیا میں آپ ﷺ رحمت فرما کر اس کے عیبوں اور گناہوں پر پردہ ڈال دیں۔

5. بے کسی کا اعتراف اور آخری التجا (مقطع)آخری شعر میں شاعر اپنا تخلص (محمود) استعمال کرتے ہوئے انتہائی عاجزی کے ساتھ اپنی بے کسی کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ نعت کا اختتام اسی التجا پر کرتا ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ! اس بے کس پر کرم فرمائیں

0