| خسارا ہی ممکن تھا، سو ہو گیا |
| ہمارا ہی ممکن تھا، سو ہو گیا |
| ۔ |
| نہ موسیٰ یہاں پر نہ ہی خضر ہیں |
| کنارا ہی ممکن تھا، سو ہو گیا |
| ۔ |
| نہ موقع ملا کہہ سکوں دل کی بات |
| اشارہ ہی ممکن تھا سو ہو گیا |
| ۔ |
| تمھی بزم ارواح میں ساتھ تھے |
| تمھارا ہی ممکن تھا، سو ہو گیا |
| ۔ |
| ارادہ تو کچھ اور تھا، پر وہاں |
| نظا را ہی ممکن تھا، سو ہو گیا |
| ۔ |
| جہاں بو الہوس ہوں ، بنامِ وفا |
| کنارہ ہی ممکن تھا، سو ہو گیا |
| ۔ |
| مدثرؔ خسارے کے اس دور میں |
| گزارا ہی ممکن تھا، سو ہو گیا |
معلومات