گرد ہمارے یک دم یوں آزار ہوئے
شام ہوئی ہم جیون سے بیزار ہوئے
شب بیداری ہم کو پہاڑ سی لگتی تھی
ہجر کی رت میں رستے سب ہموار ہوئے
کل تک جو میری پہچان پہ نازاں تھے
آج وہ میرے ذکر پہ کیوں بیزار ہوئے
اس نے دیکھا جب انجان نگاہوں سے
اچھے بھلے تھے یک دم ہم بیمار ہوئے
کل تک جو لوگوں کو کچلتے پھرتے تھے
آج وہی چلنے سے بھی لاچار ہوئے
مجھ کو گرانا کیوں سب کو منظور ہوا
دوست عزیز اقارب کیا اغیار ہوئے
رنگِ جہاں نے یوں ہم کو بے ہوش کیا
قبر کی تاریکی میں جا بیدار ہوئے

0
4