دل کو یوں نورِ حقیقت کا اجالا مل گیا
خود میں کھویا تو مجھے رب کا حوالہ مل گیا
میں نے توڑا ہر تعلّق جب فریبِ دہر سے
تب کہیں جا کر مجھے سچ کا اُجالا مل گیا
خواہشاتِ نفس سے پیچھا چھڑایا اس طرح
مصطفی کی یاد سے دل کو سنبھالا مل گیا
خاک میں مل کر ہی پایا رازِ ہستی کا سراغ
عجز اپنایا تو اک رستہ نرالا مل گیا
دل کی ویرانی میں جب رحمت کا جلوہ ہو گیا
رحمت کونین کا مجھ کو دو شالہ مل گیا
مصطفی کی نعت لکھنے کی سعادت سے عتیق
میرے عیبوں کا مجھے واللہ ازالہ مل گیا

0
7