جو غور کر سنا، سنی آواز تھی کوئی
جیسے سنا رہا ہو ہنسی آخری کوئی
​مدت ہوئی ہے داستاں گوئی کیے ہوئے
تجدیدِ عہدِ عشق کرے اب کبھی کوئی
​کیا خوبیاں بیان کروں اس کی ناصحا
دیوی ہے رات کی یا ہے دن کی پری کوئی
​پگڈنڈیوں سے پھول سبھی توڑیے جناب
ایسا نہ ہو کہ پیر دھرے اجنبی کوئی
​اَنْدھیرے چھا رہے ہیں تری بزمِ ناز پر
اپنا بدن جلا کے کرے روشنی کوئی
​ہم زندگی تمھارے لیے دھر چلے یہاں
اپنے لیے تلاش کریں زندگی کوئی
​دہلیزِ دل کو خون سے نہلا دیا گیا
نفرت بچی کہیں نہ محبت رہی کوئی
​یہ بات سوچنے سے مری عمر گھٹ گئی
سامان قیمتی ہے یا پھر آدمی کوئی
​اک خواب دیکھا دن کے اجالے میں رات تھی
پتھر کے شہر سے تھی روانہ ندی کوئی
​احمؔد کو دان کر گیا ہے اپنی داستان
حیران کر گئی جسے آوارگی کوئی

0
4