ہم سال کے سارے حساب عیسوی میں رکھتے ہیں
دن، ماہ، تاریخ سب اسی میں پرکھتے ہیں
کاروبار ہو یا تعلیم، وعدہ ہو یا تحریر
ہر کام کی بنیاد جنوری سے باندھتے ہیں
یکم جنوری آئے تو اگر کوئی مسکرا دے
“نیا سال مبارک” کہہ دے، تو چونک اٹھتے ہیں
کہتے ہیں فوراً ہم تو مسلمان ہیں بھائی
ہمارا سال تو ہجری، یہ بات جتاتے ہیں
نہ کہنا کوئی گناہ ہے، نہ منانا فرض
اصل سوال یہ ہے: ہم دو رُخ کیوں بناتے ہیں؟
اگر ہجری پہ فخر ہے تو عمل بھی دکھاؤ
ورنہ تضاد ہی میں خود کو کیوں الجھاتے ہیں

0
5