| عشق کی ہر شرط پر ہر وقت آمادہ رہے |
| وہ نجانے کیوں عدو کے پھر بھی دلدادہ رہے |
| ہم پہ کیوں خود غرضیوں کے حرف برسائے گئے |
| ہم تو اپنے کم رہے لوگوں کے زیادہ رہے |
| ہم کسی بھی تین میں تھے ناں کبھی تیرہ میں تھے |
| ہر طرف پُتلے ہمارے پھر بھی ایستادہ رہے |
| ہم غریبِ شہر ، ساغر خواب میں ناں چھو سکے |
| پھر بھی ساری عمر ہم کیوں تہمتِ بادہ رہے |
| ہم تو رہبر نام کے تھے قافلے اونٹوں پہ تھے |
| زندگی کے اس سفر میں ہم ہی پا پیادہ رہے |
| ہر قدم پر ٹھوکریں کھاتے رہے شاہدؔ یہاں |
| کچھ بھی ہم ناں سیکھ پائے بس یونہی سادہ رہے |
معلومات