ہیں یکتا حسیں وہ حسینوں میں تنہا
نہیں ہے جنا یوں کسی ماں نے اُن سا
دہر میں ملے کب ملے اور کیسے
بنایا خدا نے کسی کو نہ ایسا
کرے ناز یزداں جمالِ نبی پر
بلایا دنیٰ میں وہ لگتا ہے کیسا
خبر رکھے ساری خدائے حبیبی
فزوں باغِ حُب میں تقاضہ ہے حُب کا
عجب ہیں جہاں اور زماں عشق و مستی
چلیں اس میں کیسے جلے کیف جس جا
خرد کو کہاں کوئی ساقی سے ناطہ
کہاں جانے راہی دروں کا خلاصہ
ثنا اُن کی محمود ممکن نہ ہو گی
ہے حسنِ نبی پر تجلیٰ سے پردہ

0
3