صبر کا اک بے مثل رستہ سجایا آپ نے
کربلا میں عشق کا دریا بہایا آپ نے
ظلم کے آگے کھڑا ہے استقامت کا پہاڑ
دینِ حق کے واسطے سب کچھ لٹایا آپ نے
پیاس، بھوک اور سختیوں میں بھی نہ چھوڑا راستہ
صبر کا مفہوم دنیا کو پڑھایا آپ نے
باطل و طاغوت کے آگے نہ جھکنے کا ہنر
اہلِ ایماں کو بہت بہتر سکھایا آپ نے
اپنے نانا کے مقدس دین کی خاطر حسینؑ
ہر قدم پر فرضِ حق اچھا نبھایا آپ نے
خون دے کر گلشنِ اسلام کو دی تازگی
گھر لٹا کر دین کا گلشن بچایا آپ نے
ان کے نقشِ پا پہ ہر دم سر رہے تیرا عتیق
صبر کا دامن نہ چھوٹے، یہ بتایا آپ نے

0
6