| مرے جانے کے بعد آخر |
| مجھے بھی یاد کیا جائے |
| مرے لفظوں کی خوشبو سے |
| کوئی دل چھو لیا جائے |
| جو کہتے تھے مری باتیں |
| ہوا میں کھو ہی جاتی ہیں |
| وہی اک روز ہر محفل |
| میں میرا تذکرہ لائیں |
| مرے اشعار کے اندر |
| جو خاموشی چھپی ہوگی |
| کسی حساس دل کو وہ |
| کبھی آ کر رُلا جائے |
| مرے کاغذ پہ جو آنسو |
| سیاہی بن کے اترے تھے |
| انہیں اک روز لوگوں کا |
| عقیدت نامہ مل جائے |
| میں جس کو درد کہتا تھا |
| وہی سرمایہ ٹھہرے گا |
| مرے ٹوٹے ہوئے دل کو |
| کبھی اعزاز مل جائے |
| جو ہنستے تھے مرے اوپر |
| کہ کیا رکھا ہے لفظوں میں |
| وہی ہر شعر پڑھ کر پھر |
| مجھے شاید سمجھ جائیں |
| مری خاموش نظروں کی |
| زباں کوئی نہ پڑھ پایا |
| مرے مرنے پہ پھر شاید |
| اشارے مرے پڑھ پائیں |
| میں جن تنہائیوں میں بھی |
| چراغِ حرف رکھتا تھا |
| وہی روشن چراغ آخر |
| کسی کی راہ بن جائیں |
| مجھے شہرت نہیں درکار |
| نہ دنیا کی ستائش تھی |
| فقط اتنی تمنا تھی |
| کوئی دل سے مجھے سمجھے |
| اگر قسمت میں لکھا ہے |
| سراہا دیر سے جاؤں |
| تو پھر اس فیصلے پر بھی |
| میں لب سی کر ہی سو جاؤں |
| کبھی میری کتابوں کو |
| اگر فرصت سے پڑھ پاؤ |
| تو ہر صفحے کے پیچھے تم |
| مرا ٹوٹا یہ دل پاؤ |
| مرے ملبوس سے بڑھ کر |
| مرے کردار کو دیکھو |
| میں لفظوں میں بکھر کر بھی |
| بہت کچھ سہہ کے جی آیا |
| مرے مرنے کے بعد آخر |
| اگر محفل سجے میری |
| تو کہنا ایک شاعر تھا |
| جو لفظوں میں بکھرتا تھا |
| جو اپنے زخم سینے میں |
| چھپائے مسکراتا تھا |
| کہ ہر آنسو کو غزلوں کی |
| ردا پہنا کے رکھتا تھا |
| مرے جانے سے ہی شاید |
| مجھے سب یاد کر لیں گے |
| مگر افسوس یہ ہوگا |
| میں سننے کو نہیں ہوں گا |
| مگر یہ یاد رکھنا تم |
| سخن ساگر کے زندہ ہیں |
| بدن مٹی میں سویا ہے |
| جو خود کو لکھ گیا دل سے |
| وہ کب دنیا سے کھویا ہے |
معلومات