لے کہ مکے میں آئی تھی قسمت ہمیں
چین ملتا رہا ہم کو ہر دم یہاں
وقتِ رُخصت ہُوا، دل پہ طاری ہے غم
اور لبوں پر ہے جاری بس آہ و فغاں
دید کرتا تھا اُن کی یہ بابِ سَلام
جب گزرتے یہاں سے وہ شاہِ اَنام
دِل بچھاتے رہے اُن کے قدموں میں ہم
دِل کی حسرت کا کیسے کریں ہم بَیاں
اللہ اللہ وہ کعبے کا منظر حَسِیں
کس قدر دلنشیں، آفریں آفریں
کُچھ نہ قابو رہا اپنے جذبات پر
پھر نجانے مُیسّر ہو کب یہ سماں
خاص نُورِ اِلٰہی میں ڈُوبا مطاف
کیف و مستی میں عُشاق کرتے طواف
شمع کی لو پہ پروانے جیسے نِثار
کاش نذرانے میں پیش کرتے یہ جاں
وہ صفا اور مروہ کی کرنا سعی
ہر قدم پر دُعاؤں کی کثرت رہی
خوب زم زم بھی پیتے رہے ہر گھڑی
سَیل آنکھوں سے اَشکوں کا اب ہے رَواں
غارِ ثَور و حِرا میں بھی اُن کے نِشاں
اُن کی نسبت سے دونوں ہوئے ضوفشاں
ایک ہیبت تھی طاری گئے جب وہاں
دِل پہ ہے اب جُدائی کا بارِ گِراں
جلد زیرکؔ ہماری ہو پھر حاضری
رب کے در کی ہمیشہ کریں چاکری
عمر گزرے یہاں، موت طیبہ میں ہو
پھر بقیع سے اُٹھیں جائیں سُوئے جِناں

0
2