بہت خواہش تھی جنت کی مگر حاصل ہوئی دوزخ
جسے جنت سمجھتے تھے اسی میں تھی چھپی دوزخ
سزا اور جرم دنیا میں ہیں گویا گردشی قرضہ
کسی کی چھین لی جنت کسی سے مل گئی دوزخ
جہاں پر لوگ سارے جل رہے ہوں اپنی دوزخ میں
انہیں کیا خاک سمجھائیں کہ کتنی ہے بری دوزخ
بتاؤ مختصر سی زندگی میں کیسے سوچیں ہم
کہ برزخ کس قدر لمبی ہے، کیسی ہے بڑی دوزخ
ہمیں تھے معترض اس جنتِ ارضی کی حالت پر
لو اب قسمت میں شامل ہے  دمادم اک نئی دوزخ

0
6