نئے ہیں لوگ کہیں اب پرانے کس کس کو
کہ وقت چل دیا دیکھو بھُلانے کس کس کو
کسی کے ہاتھ میں پتھر کسی کے ہاتھ میں پھول
یہ شہر دیتا رہا ہے خزانے کس کس کو
کسی کے لب پہ تبسّم کسی کی آنکھ میں غم
یہ کون بانٹ رہا ہے زمانے کس کس کو
جو ایک بار ہوئے اس جہان سے رخصت
وہاں کا حال ہیں آئے بتانے کس کس کو
کسی نے درد کو لفظوں کا پیرہن بخشا
زباں نے حرف سکھائے سیانے کس کس کو
یہاں تو دھوپ میں سایہ بھی چھوڑ دیتا ہے
تو راس آئیں گے موسم سہانے کس کس کو
اتار سکتا ہے شیشے میں جس کو جب چاہے
تو کیا وہ سوچے سنائے فسانے کس کس کو
ہر ایک شخص اسے راستہ دکھاتا ہے
درست کس کو وہ مانے نہ مانے کس کس کو
عجیب شہر ہے چہرے ہزار ہیں لیکن
حقیقتیں کوئی آئے دکھانے کس کس کو
ہم اپنے آپ سے خود ہی بچھڑ گئے طارِق
یہ آئینہ بھی بتائے نہ جانے کس کس کو

0
4