لب پہ حرفِ زناں نہیں رکھتا
میں زنخداں میں جاں نہیں رکھتا
۔
خود کو میں بدگماں نہیں رکھتا
سوچ ایسی میاں! نہیں رکھتا
۔
جو ملادے کسی کی ہاں میں ہاں
منہ میں ایسی زباں نہیں رکھتا
۔
میں بھی قادر ہوں چھوڑ دینے پر
پاؤں میں بیڑیاں نہیں رکھتا
۔
میں نبھاتا ہوں دل سے، رشتوں میں
فکرِ سود و زیاں نہیں رکھتا
۔
ہے مدثر عجیب اتنا کہ وہ
اک ہی دل کو مکاں نہیں رکھتا

0
39