عمر بھر ایک ہی خوشبو کا سفر کرتے رہے
کب سے اس دل کو تری یاد کا گھر کرتے رہے
وہ جو اک شخص مرے خواب کی تہذیب میں تھا
سب اُسے دیکھ کے کیوں صرفِ نظر کرتے رہے
تُو ملا بھی تو کسی خواب کی صورت ہم کو
ہم تجھے پا کے بھی پانے کا ہنر کرتے رہے
دل نے جب دیکھ لیا حُسنِ فنا کا چہرہ
پھر تو ہر زخم کو جینے کی خبر کرتے رہے
ہم نے دیوارِ انا توڑ دی اک لمحے میں
لوگ صدیوں میں کہیں چوٹی یہ سر کرتے رہے
تیری آواز میں ایسی تھی ازل کی خوشبو
ہم ترے ذکر کو تسبیحِ سحر کرتے رہے
جب مری روح کو اک چاند نے سیراب کیا
عکس پانے کی سعی آئنہ گر کرتے رہے
عشق دریا بھی تھا، صحرا بھی، دعا بھی، طارِقؔ
اس کو اپنا کے ہی ہم زیست بسر کرتے رہے

0
7