ہیں وطن کے نصیب پتھر کے
اور اس کے طبیب پتھر کے
فکرِ ملت کو بیچ دیتے ہیں
یہ بکاؤ ادیب پتھر کے
ظلمِ شاہی نے کر دیے دیکھو
ملک کے سب غریب پتھر کے
نرم شاخوں پہ دل کی آ بیٹھے
آج کل عندلیب پتھر کے
کان فتووں سے پک گئے سب کے
ہیں یہ ملاّ عجیب پتھر کے
جونک کا وار بھی ہے اب بے کار
ہو گئے سب خطیب پتھر کے
پیاس کیسے بجھے گی عادل اب
ہیں یہاں سب شبیب پتھر کے
عادل ریاض کینیڈین

0
5