دل توڑنے والے تو، بے حد ہیں زمانے میں
غمخوار نہیں ملتا، رشتوں کے خزانے میں
میٹھی سی زباں والے، سب زہر لیے اندر
ہنس ہنس کے ہیں سینے پر، خنجر ہی چلانے میں
باتیں تو صداقت کی، دعوے تو امانت کے
لمحے میں بدل جاتے ہیں، سچ کو ہی دبانے میں
ہمدردی ذرا کرکے، احسان جتاتے ہیں
کیا فائدہ ایسوں سے، رشتوں کو نبھانے میں
ہم نے تو سدا رکھی، بنیاد وفا کی ہی
وہ پھر بھی لگے ہیں بس، دیوار گرانے میں
امید وفا ان سے، بھولے سے بھی مت رکھنا
استاد ہیں یہ سارے، زندہ ہی جلانے میں
چہرے پہ ہنسی رکھ کر، دل رویا ہے اندر سے
اک عمر لگی ہم کو، یہ درد چھپانے میں
رکھ یاد منورؔ تو، اتنا ہی خلاصہ ہے
کوشاں ہیں سبھی نشتر، دل پر ہی لگانے میں

0
10