| میں دام ترے میں اب گرفتار چلا |
| اک زلف کا کنڈل جو مجھے مار چلا |
| ہنسنا ترا ہی میری تو اجرت ہے |
| تو بیٹھ کر آرام سے گھر بار چلا |
| شک کی عادت تری نہیں جاتی کیوں |
| غصے میں نہ تو دیسی ہتھیار چلا |
| یہ زندگی اب وقفِ زوجہ ہی ہے |
| چاہے تو پیار دے یا یلغار چلا |
| آ میرے پاس میں تجھے دیکھتا جاؤں |
| اپنی ہی محبت سے کوئی وار چلا |
معلومات