ہم پہ ایسا بھی تو ہوتا ہے اثر یادوں کا
آنکھ لگنے نہیں دیتا کبھی ڈر یادوں کا
۔
جب سے مرجھانے لگا ہے یہ شجر یادوں کا
ڈھونڈتا ہوں میں نیا اب کوئی گھر یادوں کا
۔
تھک گئے چلتے رہِ شوق پہ ہم آبلہ پا
ختم ہوتا ہی نہیں پھر بھی سفر یادوں کا
۔
دل کی کیا بات کریں اہل جنوں کے گھر بھی
چھایا رہتا ہے فسوں شام و سحر یادوں کا
۔
کب سے یہ چاہتے ہیں کوچ کریں یاں سے مگر
روک لیتا ہے ہر اک بار نگر یادوں کا
۔
یاد رکھنے کی نہ تھی بات وہ بھی یاد رہی
ہم کو لے ڈوبا مدثر یہ ہنر یادوں کا

0
2
9
اچھا کہا ہے

بہت بہت شکریہ محترم ارشد رشید صاحب

0