اس بار جب تم آؤ۔۔
تو اس ٹھٹھرتی رات میں
اپنے جوتوں کے تسمے ڈھیلے مت کرنا
کمرے کی انگیٹھی اب سرد ہو چکی ہے
اور ہمیں بس اتنی ہی دیر رکنا ہے
جتنی دیر میں
الاؤ کے کنارے پڑی کوئی آخری چنگاری
اپنی ہی راکھ کے بوجھ سے کالی پڑ جائے
ہمارے درمیان اب
کوئی ایسی ادھڑی ہوئی سیون نہیں بچی
جسے بے کار باتوں کے دھاگے سے سیا جائے۔
ہم دونوں نے اپنے حصے کے سارے گلے، ساری شکایتیں
پچھلے سال کی سیلن زدہ دیواروں میں چنوا دی ہیں
اب تو بس۔۔۔
ایک رسم ہے،
جیسے میت کو دفنانے کے بعد لوگ
قبرستان میں لگے نل کے برفاب پانی سے
خاموشی سے ہاتھ دھوتے ہیں۔
یہ ملاقات
کسی پرانی، خستہ حال کوٹھری کا وہ آخری چکر ہے
جہاں سے سارا سامان اٹھایا جا چکا ہو،
اور بس یہ دیکھنے کے لیے مڑنا ہو
کہ کوئی ضروری چیز پیچھے تو نہیں رہ گئی۔
اور ہم دونوں جانتے ہیں۔۔۔
وہاں کچھ نہیں بچا۔
نہ میری انگلیوں کے پوروں میں
تمہارے بالوں کی کوئی الجھن باقی ہے
نہ تمہارے ماتھے پر
میرے کسی پرانے انتظار کی کوئی شکن
یہ الوداع
کسی بس اسٹینڈ کی جذباتی بھیڑ نہیں
یہ تو اس پرانی رسید کی طرح ہے
جس کا رنگ، گرم لمبے بھاری بھر کم
کوٹ کی اندرونی جیب میں رکھے رکھے
بالکل سفید ہو چکا ہو
اس پر لکھا کیا تھا؟
اب کوئی نہیں جانتا۔
جب تم اٹھو،
تو دھندلے شیشوں سے باہر دیکھتے ہوئے
پلٹ کر دیکھنے کی روایتی زحمت نہ کرنا۔
کیونکہ میں بھی تمہیں جاتے ہوئے نہیں دیکھوں گا،
میری نظریں تو شاید
اس وقت
الماری کے اس خالی خانے پر جمی ہوں گی
جہاں کبھی تمہاری یادیں ،خط
تحفے رکھے رہتے تھے
تمہارے قدموں کی چاپ
باہر گلی کی گہری دھند اور سناٹے میں گھل جائے گی،
اور میں۔۔۔
بس کھڑکی کا وہ پٹ بند کر دوں گا
جو جما دینے والی سرد ہوا کے زور سے
اکثر راتوں کو
بلاوجہ کھل جایا کرتا تھا

0
1