گرد و غبار سر میں ہے ، پیروں میں دھول ہے
جانے کدھر ہماری تمنا کا پھول ہے
تسلیم کر بھی لے اگر اس بات کو شعور
دل مانتا نہیں کہ محبت فضول ہے
تُو مجھ کو بھول جائے گی ، معلوم ہے مجھے
میں تجھ کو بھول جاؤں گا یہ تیری بھول ہے
میں دیکھ لوں گا سارے زمانے کو اس کے بعد
بس تین بار کہنا ہے تم نے ، قبول ہے
دیکھو! کوئی سراب نہ ہی خواب پیار میں
اس دشت سے گزرنے کا اک ہی اصول ہے
افشائے رازِ کون و مکاں کا ذریعہ تھی
اب شاعری نمود و نمائش کا ٹول ہے
لایا ہے اپنے ساتھ کسی سانحے کی یاد
دیکھا ہے جب سے چاند مرا جی ملول ہے
میں خادمِ حسین ہوں جس کا حسن ہے بھائی
والد علی ہے ، والدہ زہرا بتول ہے
دنیا سے بول دے قمر آسی مرے لیے
کافی خدا ہے اور خدا کا رسول ہے
قمرآسیؔ

4