جو بھی غازی کے در پہ جاتے ہیں
بخت اپنا جگا کے آتے ہیں
پاک غازی کے پاک روضے پر
عرش والے بھی سر جھکاتے ہیں
فرض اپنا سمجھ کے غازی کو
دینے ہم بھی سلامی آتے ہیں
جائیں بیمار گر اسی در پر
تو شفا لاعلاج پاتے ہیں
حاجتیں کرتے ہیں روا غازی
اس لیے غم انہیں سناتے ہیں
ہے وفا کا عظیم پیکر وہ
اس لیے ہم علم اٹھاتے ہیں
مان کر باوفا انہیں عابدؔ
گھر کی چھت پر علم لگاتے ہیں

0
3