| مجھ پہ قہر و ستم وہ ڈھاتے ہیں |
| آنکھ سے آنکھ جب ملاتے ہیں |
| رفتہ رفتہ وہ پاس آتے ہیں |
| حرکتِ قلب کو بڑھاتے ہیں |
| دل میں کچھ اور ہے ، زباں پر کچھ |
| کیوں وہ اس طور آزماتے ہیں |
| ہم پہ جو جان تک لٹاتے تھے |
| آج نظریں وہ کیوں چراتے ہیں |
| عشق میں ہے سکون و چین کسے |
| رنج و غم لوگ اس میں پاتے ہیں |
| غمِ ہجراں میں دیکھ کر مجھ کو |
| دل ہی دل میں وہ مسکراتے ہیں |
| وہ سمجھتے ہیں بس حریف مجھے |
| ہم انہیں جانِ جاں بلاتے ہیں |
| بزم سے مت نکالیے مجھ کو |
| کھوٹے سکے بھی کام آتے ہیں |
| ہم نفس پر یقیں نہ کر رہبر |
| رازداں ہی تو دل دکھاتے ہیں |
معلومات