دوستی اب ختم کرنا چاہتی ہے
خود کو بھی شاید مٹانا چاہتی ہے
اختلافات آ گئے ہیں درمیاں اب
پھر بھی میرا دم بھرنا چاہتی ہے
جیت سکتی ہے وہ آسانی سے لیکن
میرے آگے ہار جانا چاہتی ہے
میرے لب سے، میں شکستہ ہوں مگر وہ
ایک چشمِ لطف پانا چاہتی ہے
فہم سے باہر ہے اس کی یہ ادا بھی
کیوں وہ حد سے بھی گزرنا چاہتی ہے
اپنے ہونٹوں کو مرے ہونٹوں پہ رکھ کر
احتجاجاً کچھ جتانا چاہتی ہے

0
1