ماں (آزاد نظم)
محبت کا پیکر ہے ماں کا سراپا
کوئی دوسرا اس کے جیسا کہاں ہے
وہ شفقت جو اس کی کلیجے میں
رکھ دی ہے رب نے
کسی اور کو وہ عطا کب ہوئی ہے
یہ ماں ہے جو اولاد پر
زندگی اپنی قربان کرتی رہی ہے
جو بچوں پہ دنیا لٹا کے بھی خوش ہے
سبھی مشکلیں مسکرا کر جو سہ لے
مگر اپنے بچوں پہ اک آنچ آنے نہ دے جو
وہ خود گیلے بستر پہ شب جاگ سکتی ہے لیکن
اسے اس جگہ اپنے بچے کا سونا گوارا نہیں ہے
یہ خود صنف نازک ہے پر اپنے لخت جگر کے لیے تو
پہاڑوں سے ٹکرا بھی سکتی ہے بے خوف ہو کر
کوئی دوسرا اس کا ثانی نہیں ہے
یہ نعمت خدا کی کبھی دوسری بار ملتی نہیں ہے
اسے کھو کے نشتر جدائی کا سہنا پڑے گا
کٹھن ہے مگر کبھی تو بِن ماں کے رہنا پڑے گا

0
30