اگلا سفر اے خاکی بشر خاک سے پرے
منزل ہے کائنات کے افلاک سے پرے
باغات نہریں کوثر و حورٌ فی الخیام
انعام خلد کے سبھی ادراک سے پرے
آدم رہِ نجات فقط راہِ مستقیم
رنگینئ جہان کے پیچاک سے پرے
لوح و قلم کا علم انہیں رب نے دے دیا
کچھ بھی نہیں ہے صاحبِ لولاک سے پرے
وعدہ خلاف کوفی تھے سید سے دور یوں
پانی تھا جیسے کربلا کی خاک سے پرے
ابلیس کے شکنجے میں افسوس نسلِ نو
منظر لہو ہے دیدہِ نمناک سے پرے
خاکِ لحد ہے اوڑھنی اے پیکرِ سحاب
کب تک رہے گا جسم یہ پوشاک سے پرے
دل پر ہے بار یادِ جفا کار اے سحاب
رکھ یادِ یار سینہ ءِ صد چاک سے پرے

64