اگلا سفر اے خاکی بشر خاک سے پرے |
منزل ہے کائنات کے افلاک سے پرے |
باغات نہریں کوثر و حورٌ فی الخیام |
انعام خلد کے سبھی ادراک سے پرے |
راہِ نجات تیری فقط راہِ مستقیم |
رنگینئ جہان کے پیچاک سے پرے |
لوح و قلم کا علم انہیں رب نے دے دیا |
کچھ بھی نہیں ہے صاحبِ لولاک سے پرے |
وعدہ خلاف کوفی تھے سید سے دور یوں |
جیسے تھا آب کربلا کی خاک سے پرے |
ابلیس کے ہے دام میں افسوس نسلِ نو |
منظر لہو ہے دیدہِ نمناک سے پرے |
خاکِ لحد ہے اوڑھنی اے پیکرِ سحاب |
کب تک رہے گا جسم یہ پوشاک سے پرے |
معلومات