| آئینے کے سامنے جب کھل گئی ہے زلفِ یار |
| خلوتوں کی وادیوں میں چھا گئی فصلِ بہار |
| تیرے عارض کی چمک سے طاقِ شب روشن ہوا |
| منظروں کی وسعتوں کا ذرہ بھی کندن ہوا |
| مسکرا کر تو نے جب بھی عکس اپنا تک لیا |
| آئینے میں تو نے جیسے چاند لا کر رکھ دیا |
| زلف سلجھاتی ہے جب تو آئینے کے روبرو |
| سائے کے ہونٹوں سے ہوتی ہے تری ہی گفتگو |
| چاندنی میں آج تیری دھڑکنوں کا رقص ہے |
| آئینے میں جلوہ گر یہ خوشبوؤں کا عکس ہے |
| سانس کی گرمی سے پل میں اک دھواں سا چھا گیا |
| سائے کو بھی آج جیسے حسن تیرا بھا گیا |
| تیرے مکھڑے کی دھنک سے آئینے میں رنگ ہیں |
| حسن تیرا، روپ تیرا، آج دونوں سنگ ہیں |
| آنکھ کے کاجل کا جادو روپ پر طاری ہوا |
| نقش کے بننے کا دلکش سلسلہ جاری ہوا |
| خواب کی یہ خامشی بھی آج روشن ہو گئی |
| جیسے آئینے کے سینے میں بھی دھڑکن ہو گئی |
| ہٹ گئی تو، روپ تیرا آئینے میں رہ گیا |
| آئینہ اس دلبری کا سارا قصہ کہہ گیا |
| نور تیرا طاقِ شب پر بن گیا ہے اک دیا |
| اپنے ہی سائے کو تو نے آج حیراں کر دیا |
| اب مری خلوت میں تیرا سحر ہی آباد ہے |
| آئینے کو آج تک وہ رات ازبر یاد ہے |
معلومات