زمانے کو ہم الوداع کر چلے
جیے جس قدر سر اٹھا کر چلے
دعاؤں میں اب یاد رکھنا ہمیں
کہ ہم اپنے وعدے وفا کر چلے
بھلاؤ گے ان کو بھلا کس طرح
معطر جو دل کی فضا کر چلے
خدا ہو کرم کی نظر ان پہ، جو
شجر چاہتوں کے لگا کر چلے
جو روتے ہوئے قبر پر آئے تھے
ہوا کیا کہ اب مسکرا کر چلے

0
5