ہیں بخشش کے سارے طلبگار یارب
مصیبت سے بیڑا بھی ہو پار یارب
اٹھے ہاتھ نا سامنے غیر کے بھی
سلامت رہے خودی و پندار یارب
سئیئات بھی حسنات سے تُو بدل دے
بے فکری سے مل جائے افکار یارب
پڑے ہوئے ہیں ہم بے حس اور بے بس
ہمیں کرنا غفلت سے بیدار یارب
رہے خلد کی نعمتیں ہی حصہ میں
نہ پائیں جہنم کی بھی نار یارب
نافرمانیاں کی بہت ہیں دانستہ
کرم ہی ترا اب ہے درکار یارب
عطا کر رکھی وسعتیں بھی بے پایاں
اطاعت میں کر سب کو سرشار یارب
سوالی ہے ناصؔر بھی در کا ترے ہی
دعا رد نہ ہو گر ہے بدکار یارب

0
48