ہم ترے دل سے بہت دور چلے جائیں گے
تجھ سے وعدہ ہے نظر تجھ کو نہیں آئیں گے
منتیں کرنا نہ تو میرے پلٹ آنے کی
زہر کھا لیں گے مگر لوٹ نہیں آئیں گے
در گزر کر دے مجھے اپنا سمجھنے کے لیے
غیر ہوں کیسے مجھے اپنا بنا پائیں گے
تیری یادوں کے سہارے ہی جیا کر لیں گے
بھیک اب پیار کی ہم مانگ نہیں پائیں گے
جانتا ہوں کہ وفا کیوں نہ نبھاتے ہو مری
تم حسیں ٹھہرے حسیں ہم تو نہ ہو پائیں گے
عشق اب چھوڑ دو گل اشک بہیں گے ورنہ
لوگ پوچھیں گے تو کیا ان کو بتا پائیں گے

0
4