زندگی سے مجھے شکایت ہے
سانس لینا یہاں اذیت ہے
یہاں تریاق اب ملے نہ ملے
زہر پر پھر بھی کچھ رعایت ہے
شوق سے زندگی ختم کر لوں
خودکشی کی یہاں سہولت ہے
جاہلوں کو جو سرفراز کرے
آج اس شہر کی روایت ہے
ایک معصوم چڑھ گیا صولی
یہاں انصاف کی حکومت ہے
اس زمیں پر مجھے نہ دفنانا
یہ مری آخری وصیت ہے

0
71