عشق کی راہ میں ہر موڑ پہ حیرانی ہے
دل کا کیا ذکر یہاں عقل بھی دیوانی ہے
ہجر کے دشت میں چلتے ہیں تو یہ کھُلتا ہے
کیا کوئی صبر سے آگے کی بھی قربانی ہے
ہم نے چاہا تھا کہ ہم ہوش میں رہ جائیں مگر
کیا کریں عشق کی فطرت ہی میں طغیانی ہے
چاہتیں بڑھتی رہیں دل نہ کبھی بھر پایا
اس محبت میں عجب درد کی ارزانی ہے
کوئی تدبیر نصیحت نہ کوئی کام آئی
دل کی دنیا میں فقط یاد کی سلطانی ہے
جس کو سمجھا تھا سکوں وہ بھی عذابوں میں ملا
زندگی عشق کے ہاتھوں ہی تو پہچانی ہے
حالِ دل ہم نے تو پوشیدہ رکھا تھا لیکن
آنکھ بتلا دیا کرتی ہے پریشانی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ سب زخم بھریں وقت کے ساتھ
وقت مرہم نہ بنے درد کی درمانی ہے
دل کی قیمت نہ لگاؤ کہ یہ سودا تو نہیں
ہے جو حقدار امانت اُسے پہنچانی ہے
عشق میں اتنا ہی سیکھا ہے کہ طارق اِس کی
جتنی پہچان بڑھی اتنی ہی نادانی ہے

0
3