| تو دیکھ کہ اب سارا جہاں سنتا ہے |
| ورنہ تم بن کوئی کہاں سنتا ہے |
| میں کیسے اسے یقیں دلاؤں اپنا |
| وہ اب کہاں میری بد گماں سنتا ہے |
| وہ تیری باتیں سن تو لے گا مگر |
| وہ شخص محبت کی زباں سنتا ہے |
| میرے رونے پہ ہنستے ہیں لوگ سبھی |
| اب کون مری آہ و فغاں سنتا ہے |
| دیواریں سب بولتی تو ہیں لیکن |
| دیواروں کا دکھ فقط مکاں سنتا ہے |
| کچھ راز کی باتیں ہوتی ہیں ساغر |
| چپ ہو جا کہ اب سارا جہاں سنتا ہے |
معلومات