پردیس میں مقیم سلگتے چراغ ہیں
دل میں ہمارے دیس کی چاہت کے داغ ہیں
تھی تربیت غلط سو کرپشن میں لگ گئے
ورنہ ہمارے لوگ بھی روشن دماغ ہیں
اپنے وطن میں رہ کے بھی نوحہ کناں ہو تم
ہجرت نصیب ہم ہیں جہاں، باغ باغ ہیں
مولیٰ! وطن فروش ہیں کیوں ہم پہ طعنہ زن
ہم لوگ تو وطن کی وفا کے سراغ ہیں
جو باغبان ہو کے بھی گلشن اجاڑ دیں
حاکم ہمارے ملک پہ وہ بد دماغ ہیں
سونا اگا کے دے گی جو محنت کرے کسان
جس سرزمین پاک کے ہم پھول باغ ہیں
عادل ریاض کینیڈین

0
3