| مت عام سمجھ ، کہ خاص ہیں ہم |
| اے حسن ترا لباس ہیں ہم |
| کیوں ہم سے خفا مسرتیں ہیں |
| کیوں رنج و الم کو راس ہیں ہم |
| ہیں زہر منافقوں کی خاطر |
| مخلص کے لیےمٹھاس ہیں ہم |
| احسان لیا نہیں خرد کا |
| آقائے جنوں کے داس ہیں ہم |
| تشخیص غلط ہوئی ہے اپنی |
| مایوس نہیں ، اداس ہیں ہم |
| تم وقت گئے کو مت کرو یاد |
| یہ دیکھو تمہارے پاس ہیں ہم |
| امکان بچھڑنے کا نہیں ہے |
| تم گھر ہو اگر،اساس ہیں ہم |
| قمرآسیؔ |
معلومات