اکیلے میں تم جو گا رہے ہو
یہ گیت کس کو سنا رہے ہو
یہ بھیگی پلکیں یہ زرد چہرہ
انہیں بھلا کیوں چھپا رہے ہو
یہ کس نے توڑا ہے دل تمہارا
یہ کس کا مجھ کو بتا رہے ہو
گلوں سے الفت جتانے والے
کلی سے نظریں چرا رہے ہو
یوں ساتھ جینے کے وعدے کر کے
ابھی سے دامن چھڑا رہے ہو
گھما کے نظریں جھکا کے چہرہ
نگاہیں مجھ سے چرا رہے ہو
خیال آیا ہے کس کا ساغر
کہ رو کے پھر مسکرا رہے ہو

0
186