خدایا یہ کافور غم مانگتا ہوں
جو فیضِ جلیلِ حرم مانگتا ہوں
حبیبِ خدا پر فدا جان کر دوں
کریما یہ عزمِ اتم مانگتا ہوں
شہے دو سریٰ کا میں ادنیٰ گدا ہوں
ملے دید شاہِ امم مانگتا ہوں
اِس اُمّت پہ مولا جو مُشکل ہے بھاری
ختم اِن پہ سارے سِتم مانگتا ہوں
ہوں نامِ نبی پر فدا مُومنیں سب
ذرا ان کے بازو میں دَم مانگتا ہوں
سدا رشکِ سلطاں گدا مصطفیٰ کے
نبی کا میں نقشِ قدم مانگتا ہوں
جوانانِ اُمت چلیں راہ سیدھی
ملے ان کو صدق و حلم مانگتا ہوں
وہ شاہیں اُڑیں اُونچے آفاق پر پھر
بنیں پاسبانِ حرم مانگتا ہوں
حسیں راہ سیدھی رسولِ خدا کی
نہیں جس پہ کوئی الم مانگتا ہوں
ہے شاہی سے بہتر گدائی نبی کی
مدینے میں صحنِ حرم مانگتا ہوں
رکے ہیں جو برزخ کے عالم میں مومن
میں اُن کا ٹھکانہ اِرَم مانگتا ہوں
ہے محمود عاصی گدا اُن کے در کا
کریں اس پہ آقا کرم مانگتا ہوں

0
1