ہزار پردۂ ادراک گو اُٹھا دیکھا
ہو دید جس میں تری آئنہ جدا دیکھا
گماں کے دشت میں ڈھونڈا نہیں ملا لیکن
تجھے یقین کے انوار میں سجا دیکھا
یہ عشق کیا ہے فقط اک فنا کا دریا ہے
سو اپنے آپ کو ہر موج میں فنا دیکھا
کبھی جو بیٹھا تصور میں دیکھنے تجھ کو
تو ایک نقطے میں کون و مکاں سما دیکھا
تری نگاہ میں دیکھی جو ڈوب کر دنیا
ہر اک بشر میں تری ذات کو چھُپا دیکھا
وہ ایک حرفِ “کُن” ایسا کہ جس کے جلووں نے
عدم کو اوڑھ کے ہستی کی دی قبا دیکھا
میں خاک تھا ترے در کی طرف چلا آیا
تو دل کا خون بھی آنکھوں سے پھر بہا دیکھا
تری طلب میں عجب مرحلے بھی آئے ہیں
دعا کو بنتے ہوئے درد کی دوا دیکھا
کچھ اس ادا سے جلی شمعِ آرزوئے دل
دھواں اٹھا جو ترا عکس ہی بنا دیکھا
فریبِ دید تھی دنیا سراب تھا سب کچھ
تلاش پانی کی چشمے کا ماجرا دیکھا
غمِ حیات سے طارِق نجات کیا ملتی
کہ دل کو دیکھا تو دنیا سے ماورا دیکھا

0
3