کبھی تو اُس کی نظر میں ٹھہر کے دیکھتے ہیں
وہ کیا چھپاتا ہے آنکھوں میں، پڑھ کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو بھی تنہائیوں سے وحشت ہے
سو اس کے ساتھ کوئی شام کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی ہنسی میں چھپا ہے اک غم بھی
سو اس کی آنکھ میں کچھ پل ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو بھی خوابوں سے کچھ شکایت ہے
سو اس کے خواب میں اک دن اتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو محبت پہ اعتبار نہیں
سو اس کے سامنے اقرار کر کے دیکھتے ہیں
اداس لوگ سنا ہے اسے پسند نہیں
سو اپنے درد سے بھی اب مکر کے دیکھتے ہیں
(احمد فرازؔ کی زمین میں ایک جسارتِ سخن)

0
6