اک عجب سی بے قراری ہے دلِ ناکام میں
جیسے محشر جاگ اٹھا ہو دلِ گمنام میں
​اس قدر قاتل ادائیں لے کے وہ آئی یہاں
اک قیامت سی بپا ہے شوخ کے ہر گام میں
​یار کا ترچھی نگاہوں سے پلٹ کر دیکھنا
تیز خنجر آ گیا ہے عاشقی کے کام میں
​ہجر کی کالی اداسی اس قدر طاری ہوئی
ڈس رہی ہے یاد اس کی آج میرے بام میں
​مسکراہٹ کی تہوں میں کرب کتنا ہے چھپا
پڑھ سکا ہے کون اس کو حسرت و آلام میں
​تاجور محوِ تماشا ہیں طرب کی آگ میں
اک قیامت چیختی ہے شہر کے ہنگام میں
​ظلمتِ شب سے بغاوت کا ہنر سیکھو ذرا
آس کی کرنیں چھپی ہیں آج کالی شام میں
​ہم کو لگتا ہے کہ ہم آزاد ہیں اپنی جگہ
پھڑپھڑاتے ہیں مگر ہم سب قضا کے دام میں
​تاج و تخت و لشکر و جاہ و حشم کس کام کے
دیکھ لو کیا بچ رہا ہے دہر کے انجام میں
​زاہدوں کو ناز ہے اپنے جبینِ زہد پر
رند کھوئے جا چکے ہیں یار کے پیغام میں
​لا مکاں کی رفعتیں جس کو نہ چھو کر پا سکیں
میں نے اس جلوے کو دیکھا ہے نگہ کے جام میں
​خون تھوکیں گے قلم المیرؔ تیری یاد میں
اک بغاوت پل رہی ہے حرف کے الہام میں

0
3