حیات جو ضمیر ہے
مناتا وہ غدیر ہے
یہ کہہ گئے ہیں مصطفیٰ
علی مرا وزیر ہے
ولائے مرتضیٰ نہ ہو
تو بادشاہ فقیر ہے
بنائے جس کو خود خدا
علی ولی وہ پیر ہے
یہ منقبت ہے جاوداں
کلام یہ اخیر ہے

0
2