اے شفیعِ امم دافعِ ظلم و غم مجھ پہ کیجیے کرم اب خدا کے لیے
کوئی حامی نہیں غم کے مارے ہیں ہم مجھ پہ کیجیے کرم اب خدا کے لیے
تم ہی تو سارے عالم کے مختار ہو رحمتِ کل جہاں رب کے دلدار ہو
تیرے دربار میں ہاتھ پھیلائے ہم مجھ پہ کیجیے کرم اب خدا کے لیے
غم کے طوفان میں میری کشتی پھنسی مطلبی ہے یہ دنیا نہ آیا کوئی
اہلِ حق تین تھے اور چوتھے تھے ہم مجھ پہ کیجیے کرم اب خدا کے لیے
لوگ قرآن سے اب بغاوت کریں ان کو بھیجیں جو آیت تو حجت کریں
نفس کے ہیں پجاری وہ اہلِ ستم مجھ پہ کیجیے کرم اب خدا کے لیے
نعت لکھتے ہے پُر نم سرِ شامِ غم آ گیا ہے بلانے کا اب وقتِ نم
دور کردے مرے دل سے فرقت کا غم مجھ پہ کیجیے کرم اب خدا کے لیے
دور کردے الٰہی یہ اب تیرگی مل ہی جائے گی گل کو نئی زندگی
ختم فرما دے مولا یہ رنج و الم مجھ پہ کیجیے کرم اب خدا کے لیے

0
3