جنہیں یادِ دلبر میں راحت ملی ہے
گراں اُن کو اس سے سعادت ملی ہے
بنا ورد جن کا حسیں نامِ نامی
انہیں بخششوں کی علامت ملی ہے
امیری جہاں میں وہ ہی کر رہے ہیں
جنہیں لطفِ جاں سے اِعانَت ملی ہے
جو روضہ کے کرتے ہیں دیدار ہر دم
حسیں اُن کو یارو عبادت ملی ہے
وہ دیکھیں جو منظر حسیں جالیوں کے
عنایت میں اُن کو لطافت ملی ہے
مدینہ کے منظر مبارک ہیں سارے
بڑی اس کو مولا سے حرمت ملی ہے
ملے جن کو لیل و نہارِ مدینہ
خدا سے انہیں اعلیٰ عزت ملی ہے
ہو محمود سمرن حسیں نامِ سرور
شکر ہے خدایا جو ہمت ملی ہے

0
3