روشن جہان کرتا دائم ہے نور تیرا
دیکھے نہ دیکھے ہستی ہر جا ظہور تیرا
ہر ملک پر الٰہی تیری ہے بادشاہی
ہر خیر کا خزانہ رہتا ہے پُور تیرا
رونق عطا سے تیری سارے چمن میں پھیلی
سارا نظامِ ہستی ربِ غفور تیرا
موسیٰ نے طور پر تھی دیکھی حسیں تجلیٰ
ہے مصطفیٰ نے لیکن پایا حضور تیرا
تو چھُپ کے منظروں میں کرتا ہے خود نظارہ
ادراک سے ورا بھی ہر قُرب و دور تیرا
مبداءِ خلق تجھ سے تیرے جہان سارے
صبحِ صفا ہے تیری یومِ نشور تیرا
محمود دونوں عالم تابع ہیں کبریا کے
تجھ کو ملا خدا سے سارا شعور تیرا

0
1