| زندگی تجھ سے بدگماں ہو گئے ہیں |
| ہم جلے اتنے کے زیاں ہو گئے ہیں |
| لوگ جو میری زندگی تھے کبھی وہ |
| اب کہیں اور ان کے مکاں ہو گئے ہیں |
| کچھ ہمیں حاصل اب نہ ہو گا دوا سے |
| زخمِ پوشیدہ سب عیاں ہو گئے ہیں |
| تیری خاموشی کا کیا فائدہ جب |
| راز سارے تیرے بیاں ہو گئے ہیں |
| ہاں بہاروں کی آرزو اب نہیں ہے |
| میرے موسم سارے خزاں ہو گئے ہیں |
| رہتے تھے پر رونق کبھی زندگی میں |
| درد کا ساگر اب جہاں ہو گئے ہیں |
معلومات