آ گیا یار کا خیال مجھے
ورنہ اتنا نہیں ملال مجھے
پوچھتا ہے گئے دنوں سے دل
ہجر بہتر ہے یا وصال مجھے
کرب باقی ہے شام میں لیکن
کر رہی ہے تھکن نڈھال مجھے
من رہا منتظر جواب کا پر
ہاں میں اس کی ملا سوال مجھے
اس جہاں کی نہیں ہے فکر کوئی
تو نہ جگ میں بنا مثال مجھے
میں بکھر جاؤں گا تیری طرح
امتحاں میں کسی نہ ڈال مجھے
زندگی تیری مہربانی ہے
اس مصیبت سے بھی نکال مجھے
پی رہا ہوں نظر سے میں شاہد
گر نہ جاؤں کہیں سنبھال مجھے

0
3