ذکر مصطفیٰ کا سرِ بام ہے
لگے ہر زباں پر یہ ہی نام ہے
ثنائے نبی میں مگن ہے یہ دل
یہ ہی فکر میری یہ ہی کام ہے
ہے مدحت نبی کی جہاں میں رواں
یہ فیضِ جلی دہر میں عام ہے
ہیں انسانِ کامل نبی مصطفیٰ
دنی میں انہی کا گیا گام ہے
مدینہ ہے اُن کا منور بڑا
ملے وحدتوں کا جہاں جام ہے
وہ ہادی وہ رہبر وہ سالار بھی
ہے تعلیم اُن کی جو اسلام ہے
زمین و زماں ہیں انہی کے لئے
دہر اُن کی آمد سے ہی تام ہے
ہے محمود قرباں نبی کے لئے
دیا میرے دل نے یہ پیغام ہے

1
6
خلاصۂ نعت
یہ نعتِ رسولِ اکرم ﷺ **ذکرِ مصطفیٰ ﷺ، مدحتِ نبوی ﷺ، آپ ﷺ کی ہدایت و رہبری، تعلیمِ اسلام، اور مدینۂ منورہ کی عظمت و نورانیت** کو مرکزی موضوع بناتی ہے۔ شاعر کے نزدیک نبیِ کریم ﷺ انسانِ کامل، ہادی، رہبر اور سالارِ جہاں ہیں، جن کی آمد سے دنیا کو کمال، ہدایت اور فیض نصیب ہوا۔ آخر میں شاعر اپنے دل کی کیفیت بیان کرتے ہوئے **محبت و عقیدتِ رسول ﷺ میں اپنی جان قربان کرنے** کا عہد ظاہر کرتا ہے۔

0