تنگ و تاریک سا حصار ہوں میں
روحِ ارضی ترا مزار ہوں میں
کر سکی میں ادا نہ قرض ترا
زندگی تیری قرضدار ہوں میں
تہمتیں تُجھ پہ ساری ناحق تھیں
سچ تو یہ ہے ستم شعار ہوں میں
بے کلی بے خودی کا عالم ہے
سب ہیں مدہوش وہ خمار ہوں میں
زِندگی بے کلی سے ہے تعبیر
دلِ زندہ ہوں بے قرار ہوں میں
ہے سحؔر مجھ کو خوفِ تاریکی
صرف سورج کی پاسدار ہوں میں

132